ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے بعد طے پانے والے فریم ورک معاہدے نے وقتی طور پر خطے میں لڑائی تو روک دی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے نے خطے کے مستقبل کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
بین الاقوامی ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت فریقین نے مزید حملے نہ کرنے اور جوہری تنصیبات پر بین الاقوامی نگرانی کو جزوی طور پر بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، معاہدے کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئیں اور اس کے طویل مدتی اثرات غیر واضح ہیں۔
1) جنگ کے بعد ممکنہ تبدیلیاں
آبنائے ہرمز: جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکیوں نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ فریم ورک معاہدے میں اس اہم بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی یقین دہانی شامل ہے، لیکن ایران نے اسے 'اسٹریٹیجک کارڈ' کے طور پر اپنے پاس رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ TRT World کے مطابق، کسی بھی کشیدگی کی صورت میں یہ راستہ دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
لبنان اور حزب اللہ: اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی عسکری صلاحیت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے لبنان میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے، جہاں حزب اللہ کا سیاسی اثر و رسوخ کمزور پڑ سکتا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف: یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت معاہدے کو اپنی 'عسکری کامیابی' قرار دے رہی ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے اور خطے میں اس کی ڈیٹرنس بحال ہو گئی ہے۔ تاہم، اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے کسی بھی امکان کو برداشت نہیں کرے گا۔
جوہری پروگرام: معاہدے کا سب سے پیچیدہ نکتہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ فریم ورک میں یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے پر بات ہوئی ہے، لیکن ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے جاری رہے گا۔ Reuters کے مطابق، آئی اے ای اے کو کچھ تنصیبات تک رسائی دی جائے گی، مگر مکمل نگرانی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
تجزیہ
فریم ورک معاہدہ جنگ روکنے میں تو کامیاب رہا، لیکن اس نے بنیادی تنازعات کو حل نہیں کیا۔ ایران کا جوہری پروگرام، اسرائیل کی سکیورٹی کے خدشات، اور امریکہ کا خطے میں کردار، یہ تمام مسائل ابھی بھی موجود ہیں۔ معاہدہ ایک 'عارضی جنگ بندی' سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔
2) معاشی حالات
جنگ نے تینوں ممالک کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا اور عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
تیل کی قیمتیں اور اسٹاک مارکیٹس: جنگ کے عروج پر خام تیل کی عالمی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ معاہدے کے اعلان کے بعد قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔ خلیجی ریاستوں اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھاری مندی دیکھی گئی۔
ایران کا 145 بلین ڈالر نقصان: Al Arabiya کی ایک رپورٹ کے مطابق، ابتدائی اندازوں میں جنگ کی وجہ سے ایران کی تنصیبات، تیل کی صنعت اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 145 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ پابندیوں اور جنگ کے مشترکہ اثرات سے ملک میں مہنگائی کی شرح 105 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اسرائیل کا ہفتہ وار 3 بلین ڈالر نقصان: اسرائیلی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے دوران ملکی معیشت کو ہر ہفتے تقریباً 3 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ نقصان سیاحت کی بندش، کاروباری سرگرمیوں کی معطلی، اور بھاری عسکری اخراجات کی وجہ سے ہوا۔
3) ایران مضبوط یا کمزور؟
فوجی تباہی اور قیادت کا بحران: اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے کئی اہم فوجی اڈے، میزائل ڈپو اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر بھی مارے گئے، جس سے قیادت میں ایک خلا پیدا ہوا ہے۔
رجیم بچ گئی: شدید ترین حملوں کے باوجود ایرانی رجیم اقتدار میں برقرار رہی۔ حکومت کے حامی اسے 'مزاحمت کی فتح' قرار دے رہے ہیں۔ لیکن ملک کے اندر معاشی بدحالی کی وجہ سے حکومت کو عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
آبنائے ہرمز کارڈ: اگرچہ ایران عسکری طور پر کمزور ہوا ہے، لیکن اس کے پاس آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت اب بھی ایک بڑا اسٹریٹیجک ہتھیار ہے۔ یہی وہ کارڈ ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتیں ایران سے مذاکرات پر مجبور ہوتی ہیں۔
4) مقصد شدت پسند رہنما ہٹانا تھا؟
جنگ شروع کرنے کے وقت امریکہ اور اسرائیل کے کچھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس کا ایک مقصد ایران میں 'رجیم چینج' بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، فریم ورک معاہدے کے بعد یہ واضح ہے کہ یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ ایرانی حکومت اپنی جگہ پر قائم ہے۔
اسی طرح، اسرائیل کا بنیادی ہدف ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ تھا۔ Reuters کے مطابق، اگرچہ پروگرام کو نقصان پہنچا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور ایران نے افزودگی کی صلاحیت کو برقرار رکھا ہے۔ اس لیے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ اپنے اعلان کردہ بڑے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا فریم ورک معاہدہ ایک مستقل امن کی بنیاد بن سکے گا، یا یہ صرف اگلی بڑی جنگ سے پہلے کا ایک وقفہ ہے؟ خطے کا مستقبل اس سوال کے جواب پر منحصر ہے۔